Pakistani

Pakistani


Print This Post دوست کو ارسال کریں

نیا سال

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 31 Dec 2008

اذیتوں بھرا ٢٠٠٨ رخصت ہو رہا ہے، ٢٠٠٨ چیخ وپکار میں گزرا، حکومت پریشان اور عوام بے حال رہے۔ دھماکے، خود کش حملے، دہشت گردی کی وجہ سے ہر طرف قیامت برپا ہے، ایسے عالم میں نئے سال کی کیسی مبارک باد؟
جس دیس کے کوچے کوچے میں
افلاس آوارہ پھرتی ہو
جو دھرتی بھوک اگلتی ہو
اور ۔۔۔!
دکھ فلک سے گرتا ہو
جہاں بھوکے ننگے بچے بھی
آہوں پر پالے جاتے ہوں
جہاں سچائی کے مجرم بھی
زندان میں ڈالے جاتے ہوں
جہاں مظلوم کے خون سے
اپنے محل دھوئے جاتے ہوں
اُس دیس کی مٹی برسوں سے
یہ دُکھ جگر پر سہتی ہو
اُس دیس، اُس ملک میں کیسا سویرا، نئے سورج کی کیسی باتیں
جہاں ماتم ہوتے ہوں وہاں خوشیاں نہیں منائی جاتیں
 اس عالم  میں تو صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے، آئیں اور ہم سب اللہ تبارک و تعالٰی سے گڑ گڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔
اے تمام جہانوں کے رب!
وطنِ عزیز کو امن و آشتی کا گہوارہ بنا اور ہمیں ایسے حکمران عطا کر جو ہماری راہنمائی کر سکیں۔
اے ہمارے رب!
ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہو جائیں اُن پر گرفت نہ کر ‘مالک‘ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے۔
پروردگار!
ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار نہ ہو اور ہمیں معاف فرما اور بخش دے اور ہم پر رحم کر تو ہمارا مولٰی ہے، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔
اے اللہ!
تو بخش دے میری واقعی بات اور میری ہنسی مذاق کو، خطاؤں کواور جو میں نے جان کر کیا اور اس گناہ کو جو میرے پاس ہے، تو ہی آگے کرنے والا اور پیچھے کرنے والا اور ہر چیز پر تو ہی قادر ہے۔

زمرہ : رسم و رواج, پاکستان | 33 بار دیکھا گیا | 3 تبصرے »

Print This Post دوست کو ارسال کریں

محترمہ بینظیر بھٹو شہید دی یاد اچ

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 26 Dec 2008

 

توں ہانویں تاں
اتھ رونق ہئی
اتھ خشیاں ہن
اتھ ہاسے ہن
اتھ ہر کئی کھل تے ملدا ہا
اتھ مل تے ہر کئی کھلدا ہا
توں گئیں تاں سانول
ایں لگدے
اتھوں خشیاں گئین
اتھوں ہاساں گئین
ہر چہرہ مونجھ توں مونجھا ہے
ہے اکھ ہر کہیں دی نم رہندی
 در در تے ماتم ہے
پیا ہر کئی وین ولیندا ہے
تیڈی روہی رات کوں روندی ہے
دیدار تیڈے کوں لوہندی ہے
تیڈا تھر ہے سارا صدمے وچ
تیڈا گھر ہے سارا صدمے وچ
ہک وار ولا دیدار کرا
ساڈی اُجڑی جھوک تے پھیرا پا

 

رازش لیاقت پوری

زمرہ : شعروادب | 29 بار دیکھا گیا | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

Print This Post دوست کو ارسال کریں

یہ بارشیں بھی تم سے ہیں

مصنف : پاکستانی :: بتاریخ 18 Dec 2008

اس وقت ڈیرہ غازی خان کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں موسم سرما کی بارشیں ہو رہی ہیں۔ موسم کے مطابق ایک نظم حاضر ہے، اس نظم کے ساتھ ساتھ بارش انجوائے کیجیئے۔

یہ بارشیں بھی تم سے ہیں
جو برس گئی تو بہار ہیں
جو ٹھہر گئی تو قرار ہیں
کبھی آ گئی یونہی بے سبب
کبھی چھا گئی یوں ہی روزِ شب
کبھی شور ہیں کبھی چپ سی ہیں
یہ بارشیں بھی تم سے ہیں
کسی یاد میں کسی رات کو
اک دبی ہوئی سی راکھ کو
کبھی یوں ہوا کہ بجھا دیا
کبھی خود سے خود کو جلا دیا
کبھی بوند بوند میں غم سی ہیں
یہ بارشیں بھی تم سے ہیں

زمرہ : شعروادب | 25 بار دیکھا گیا | 2 تبصرے »